31 دسمبر 2011 - 20:30

بحرین کے انسانی حقوق مرکز کے سکریٹری نبیل رجب نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت بدستور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ابنا: نبیل رجب نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت نے گذشتہ برس وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے اور بحرین کے باشندوں کو اپنی تشدد آمیز پالیسیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے بحرینی خواتین کے مظاہروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملت بحرین کی مزاحمت اور پائیداری کے نتیجے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت اب یہ اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ وہ ملت بحرین کو حقوق کے مطالبوں سے دستبردار ہونے پر مجبورکرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ نبیل رجب نے کہا کہ بحرین کے حالات مزید بگڑ رہے ہیں اور منامہ حکومت کسی بھی معاہدے کی پابندی نہیں کر رہی ہے۔

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے ملت بحرین پر جاری مظالم کو انسانیت کے خلاف جرائم سے تعبیر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ بحرین کے معین کردہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ بحرین کے حالات میں سدھار آئے گا لیکن چونکہ حکومت منانہ اپنے عوام کے مطالبات پر توجہ نہیں دے رہی ہے لہذا اس ملک کے حالات بدستور بحرانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عالم میں جبکہ بحرین میں بیرونی افواج عوام کو کچل رہی ہیں تو حالات کے معمول پر آنے کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ قابل ذکر ہے بحرین میں سعودی عرب کے جارح فوجی موجود ہیں جو آل خلیفہ کے ساتھ مل کر نہتے عوام کے خلاف مجرمانہ کاروائياں انجام دے رہے ہیں۔ .....

/169